3
210

محترم اقبال اختر حسین کی کہانی ان کی زبانی

اقبال اختر حسین کی تصویر

اقبال اختر حسین کی تصویر

میں ھوں اقبال
اقبال اختر حسین

بانی سوشیوآن
آج میں آپکو اپنی زندگی کی پوری کہانی سنانے جا رھا ھوں
میں کون ھوں ؟ کیا تھا ؟ اور یہاں تک کیسے پہنچا ؟ میری پوری زندگی کے نشیب و فراز آج میں سب کچھ آپکے ساتھ شئیر کرنے جا رھا ھوں

1988 میں آٹھویں کلاس پاس کی تو سوچنے لگا کہ کچھ کرنا چاہے بہت سے دوست تھے جو آوارہ گرد تھے ان کے ساتھ بہت آواری گردی کی کیونکہ والد محترم لاہور سرکاری جاب کرتے تھے اس لیے زرا ڈھیل تھی امی کو تو کسی نہ کسی طریقے سے سنبھال ہی لیتے تھے کیونکہ وہ بہت پیار کرتی تھیں اور بہت سادہ تھیں الحمدللہ آج بھی دونوں ہمارے سروں پر موجود ہیں۔
جب ابو گھر آتے تو مجھ سے زیادہ شریف بچہ تو دنیا میں نہ ملتا کیونکہ جمعرات کو ہی امی کے پاؤں دبانا شروع کیونکہ امی کوئی شکایت نہ لگائیں جمعہ کی چھٹی ہوتی تھی اور ابو رات کو گھر آ جاتے تھے۔گھر سے نویں کلاس کے لیے جانا اور دوستوں کے ساتھ فلمیں دیکھنا اور آوارہ گردی کرنا۔
ایک دفعہ بابا کو دو مہینے تنخواہ نہ ملی اور وہ دو ماہ گھر نہی آئے کیونکہ وہ رشوت نہی لیتے تھے اس لیے ان پر عتاب آیا ہی رہتا تھا کبھی سسپنٹ ہو جاتے تھے کیونکہ بہت غصے والے تھے لوگوں سے لڑ پڑتےتھے اگر کوئی بھی آفیسر پریشر ڈالتا تو وہ ناجائز کام نہی کرتے تھے کہتے تھے نوکری چھوڑ دوں گا نہ حرام کھاؤں گا نہ کھانے دوں گا اس لیے آفس میں بنتی نہیں تھی۔ جب گھر آتے تو مجھے کہا کرتے تھے کہ بیٹا نوکری نہ کرنا ورنہ جیتے جی مر جاؤ گے اگر ضمیر مرا ہو تب کرنا وہ کبھی بھی اپنی تنخواہ کے علاوہ امی کو پیسے نہی دیتے تھے مجھے یاد ہے ان کی تنخواہ بتیس سو تھی وہ بائیس سو امی کو ہر مہینے دیتے تھے۔ وہ کہتے تھے میرے بچوں کو ایک روپیہ حرام کا لقمہ نہ جائے اس لیے وہ امی کو ہر مہینے اپنی تنخواہ ہی دیتے تھے اور اپنا خرچہ رکھ لیتے تھے
وہ سیشن کورٹ میں بیلف تھے بہت پیسہ بنا سکتے تھے لیکن نہیں، ایمان قائم تھا اور اسی میں گزارہ کرتے تھے مجھے یاد ہے جب ان کی تنخواہ آتی تھی تو کریانہ والے اورگوشت والے کو دے کر کم ہی بچتی تھی اس میں بھی امی بچانے کے لیے کمیٹیاں وغیرہ ڈال کر کچھ جمع کر لیتی تھیں۔
جب دو مہینے تنخواہ نہی آئی اور خود بھی نہی آئے تو گھر کے حالات بگڑنے شروع ہو گے اور میں بڑا تھا اس لیے امی مجھ سے ہی مشورہ کرتی اور مجھے ہی بتاتی تھیں اور آیک دفعہ میری ماں روئی کیونکہ گھر میں لکڑیاں نہی تھیں اس وقت لکڑیاں ٹال سے خریدتے تھے- میں لکڑیاں لینے نکل کھڑا ہوا اور دو گھنٹے میں باہر سے سوکھی لکڑیاں لے کر آیا اور کھانا پکایا اور بھی بہت مشکلیں تھیں جیسا کہ عید پر ہم بہن بھائی سکول کی یونیفارم ہی خریدتے تھے تا کہ سکول میں بھی وہی پہن سکیں۔ ابا جی گھر آئے تو میں نے کہا میں کسی فیکٹری میں کام کروں گا انہوں نے کہا نہی تم پڑھو پہلے لیکن میں نے کہا میں پرائیویٹ میٹرک کر لوں گا آپ مجھے اجازت دیں۔ ابا جی نے کہا نہیں! نوکری نہیں کرنی اپنا کوئی کام کرو لیکن پیسے نہی تھے کام کرنے کے
انہوں نے کہا اگلے ہفتے آؤں گا تو پیسے دوں گا۔ میں نے اسی ہفتے ایک نوکری ڈھونڈی اور ایک رات ٹیکسٹائیل میں ڈیوٹی کی وہ بھی چار گھنٹے یہ میری زندگی کی پہلی اور آخری نوکری تھی۔

اقبال حسین اپنے والد محترم اور بچوں کے ہمراہ

اقبال حسین اپنے والد محترم اور بچوں کے ہمراہ

گھر آ کر ابا جی کا انتظار کرنے لگا وہ جمعرات کو آئے اور میں نے کہا میرے ساتھ فیصل آباد چلیں میں نے کام ڈھونڈھ لیا تھا، میں کپڑے کے کٹ پیس لاؤن گا اور گھر میں ہی بیچوں گا۔ مجھے یاد ہے میرے پاس تین ہزار روپیہ تھا کچھ امی نے دیا اور کچھ ابا جی نے میں اور والد صاحب فیصل آباد کے لیے صبح کی نماز پڑھ کر نکلے اور لال مل فیصل آباد پہنچ گئے پھر کپڑا ڈھونڈنا شروع کیا وہاں کپڑا تول کر ملتا تھا کیونکہ وہ رجیکشن ہوتی تھی لیکن گاؤں والوں کے لیے بہترین تھا سستا تھا ہم نے پچاس کلو کپڑا لیا اور رات کو گھر پہنچ گئے یہ میرا پہلا سفر تھا اتنا لمبا دوسرے شہر میں اپنے والد صاحب کے ساتھ گھر آئے جتنے محلے دار تھے ان کے گھر جا کر بتایا کہ ہمارے گھر کپڑا آیا ہے بہت عورتیں دیکھنے آئیں اور ایک ہفتے میں کپڑا بک گیا اب میرے پاس ڈبل پیسے تھے اور مجھے پتا تھا کیا لانا ہے اسی طرح ہر ہفتے جمعہ کو اپنے والد صاحب کے ساتھ فیصل آباد آتا کپڑا خریدتا پورے چونیاں شہر میں ڈھول سے منادی کرواتا اور پورے شہر سے عورتیں آتیں اور کپڑا خریدتی اور میرا بزنس بڑھتا گیا اب لاکھوں میں کپڑا لے کر آتا اور بیچتا جو بچ جاتا وہ سائیکل پر رکھتا ایک دو ملازم یا دوست ساتھ لیتا دوسرے گاؤں میں جا کر مسجد میں اعلان کرواتا کہ کپڑا آیا ہے عورتیں آتی ایک جگہ اڈا لگاتا اور کپڑا بک جاتا اور پھر ایسا ایک سال تک چلتا رہا۔
پھر میں سادہ سفید کپڑا لانا شروع ہوا اور عورتوں کو کڑھائی کے لیے دیتا وہ کڑھائی کرتیں اور میں لاہور میں اعظم مارکیٹ میں ہول سیل پر بیچتا اس طرح آہستہ آہستہ اس بزنس میں آ گیا اور سارا ضلع قصور ہر گھر میں اقبال کا کام ہوتا ہر گاؤں میں ایک عورت لے کر جاتی اور سارے گاؤں سے کڑھائی کرواتی ہفتے بعد واپس کرتی میں لاہور دے کر آتا میں نے اتنا کام کیا کہ سب دوست چھوٹ گئے لیکن سگریٹ نہ چھوٹے کیونکہ آٹھویں کلاس سے ہی شروع کر دیے تھے پڑھائی چھوٹ گئی لیکن سگریٹ ساتھ ہی رہے۔
انیس سو بانویں میں میرے پاس گاڑی آگئی اور بہت خوبصوت گھر بنایا ابھی تو میں بچہ تھا لیکن بہت بڑے لوگوں سے ڈیلنگ لاہور کے بڑے تاجر منتیں کرتے تھے کہ اقبال ہمیں سارا مال دو کیونکہ ہاتھ کی کڑھائی اتنے وسیع پیمانے پر کوئی نہی کرتا تھا میں نے شروع کی وہ میرا مال باہر بھیجتے تھے اور بہت کماتے تھے میں بھی الہمدلللہ بہت کماتا تھا لیکن میری وجہ سے بہت سی عورتیں جو گھروں میں کام کرنا شروع ہوئیں وہ ہزاروں میں تھیں اور دعائیں کرتی تھیں۔
گھر میں کام ایک بہت بڑا زریعہ ہوتا ہے۔پھر میں لاہور انار کلی میں اپنی ہول سیل کی دکان بنائی اور سب کو انوائٹ کیا اس وقت باقر میٹرک کر چکا تھا اور اچھے سکول میں پڑھا بہت اچھے نمبر لیے وہ بھی میرے ساتھ کام کرواتا وہ بہت اچھا ڈیزائنر تھا جو مجھے ڈیزائین بنا کر دیتا تھا۔ دکان میں میرا ایک پارٹنر بھی تھا جو کراچی رہتے تھے جنہوں نے ڈھائی لاکھ انویسٹ کیا میرے ساتھ میں لگ گیا کام پر پوزیشن یہ تھی کہ مال کے ایڈوانس پیسے آتے تھے اور لوگ ہوٹلوں میں بیٹھ کر انتظار کرتے تھے کہ مال کب آئے گا پورے کراچی کے تاجر میرے کسٹمر تھے جو گارمنٹس باہر ایکسپورٹ کرتے تھے۔

پھر میں نے سعودیہ میں ایگزیبیشن لگایا اور بہت کمایا، آپ کو بتانا بھول گیا کہ میں نے انیس سو نوے میں پرائیویٹ میٹرک کر لیا تھا، سعودیہ میں ہی کویت کی ایگزیبیشن بک کی اور واپس آ کر تیاری شروع کر دی میرے خیال میں انیس سو ننانوے میں ایگزیبیشن تھی کویت میں میرا کنٹینر کویت جا چکا تھا کہ وہاں دوبارہ اقوام متحدہ نے اپنے انسپیکٹر بھیجے اور جنگ کا سما بن گیا اور ایگزیبیشن ڈسٹرب ہو گیا اور مال وہاں رل گیا جو چھ ماہ بعد واپس آیا تو آدھا بھی نہیں تھا بہت نقصان ہوا قرضہ چڑھ گیا تھا زیرو ہو گئے گاڑیاں بک گئیں گھر بک گیا کام بند ہو گیا دکان بند کرنا پڑی اور دو ماہ گھر بیٹھ کر اپنی چیزیں بیچ کر قرض اتارا اور دوبارہ کام سٹارٹ کیا ایک اوریگا سنٹر میں میرے پارٹنر کی دکان تھی اس میں آفس بنایا اور دوبارہ سعودیہ چلا گیا پھر اسی سال حج کیا دو تین ایگزیبیشن  میں حاضری لگائی  اور اللہ تعالی نے پھر بہت کچھ دیا اور کام شروع ہو گیا پھر واپس پاکستان آ کر دوبارہ فیکٹری لگائی اور بلاک پرنٹ کا ہول سیل کام شروع کیا برش پینٹنگ کا کام اسی طرح ہول سیل پہلے لوگ آرڈر پر بنواتے تھے میں نے اس کی فیکٹری لگا دی اور سو کاریگر کام کرتے تھے اس میں پہلے والے سارے ہول سیلر پھر ویسے ہی مال خریدنے لگے اور زیرو کے بعد پھر سب کچھ الللہ تعالی نے دے دیا۔

پھر میں دبئی گیا اور بہت اچھا مال بنا یا کیونکہ ایک ماہ کا ایگزیبیشن تھا لیکن پھر ایک اور جھٹکا پاسپورٹ چوری ہو گیا کراچی سے مال وہاں جا چکا تھا لیکن میں نہیں جا سکتا تھا واپس لاہور آیا اور پاسپورٹ بنوایا اور ویزہ لگوایا لیکن ایک ماہ گزر چکا تھا ایک دن پہلے وہاں پہنچا سٹال خالی تھا مال کلیر کیا لیکن کیا کرتا مال لا کر ایک جگہ رکھا ساری رات مال کے ساتھ بیٹھا رھا رات کو بلدیہ والے آئے اور انہوں نے ہیلپ کروا کر ایک پلاٹ میں سارے کارٹن ایک پلاٹ میں رکھوئے اور رات کا ٹائم دے کر چلے گئے میں ساری رات مال کے پاس دبئی میں بیٹھا رہا صبح دکانداروں کے پاس گیا سیمپل لے کر لیکن بات نہ بنی ایک بندے سے ویر ہاؤس لیا اور مال وہاں رکھا اور سوچا کیوں نہ دبئی میں ایک اپنا سٹور بنایا جائے پھر شارجہ میں ایک دکان لی اور اس کی سیٹنگ کی اور دو ملازم رکھ کر ان کے حوالے کی اور اپنا ویزہ لگوانے کے لیے پاکستان آ گیا کیونکہ وزٹ ویزہ ختم ہو چکا تھا پھر واپس گیا اور دکان میں رٹیل اور ہول سیل کرنے لگا
میں بتاتا چلوں باقر جوان ہو چکا تھا اور لاہور میں فیکٹری سنبھالتا تھا اس نے بھی میرا ساتھ دیا اور پتو کی کالج سے گریجوایشن کر لی تھی اور میڈیکل کالج میں داخلہ ملنے کے باوجود میرے ساتھ کام کرنے کو ترجیح دی اور وہ پاکستان میں کام بھی کرتا اور ساتھ پڑھتا بھی رہا آج ماشاءالللہ اس نے ماسٹر کر لیا ہے ماس کمنیکیشن میں، میں نے بھی پرائیویٹ ایف کیا ساتھ کام بھی کرتا گیا۔
دبئی میں پانچ سٹور ہو گئے تھے بہت لوگ کام کر رہے تھے 2003 میں میری شادی ہوگئی میرے پارٹنر کے گھر کراچی میں نصیر صاحب کے دل میں شائد پہلے سے ہی تھا میں نے اپنی بیوی کو نہیں دیکھا تھا میرے تعلق کو آٹھ دس سال ہو چکے تھے وہ میرے دوست بھی تھے مجھے جانتے تھے میری فیملی ان کے بھائی کی شادی پر گئے اور میری بیوی پسند کر آئے پھر رشتہ طے ہوا اور 2003 میں جب میں اٹھائیس سال کا تھا میری شادی ہو گئی اللہ کا شکر مجھے میری شریک حیات میری سوچ کے مطابق ملی اور میں اپنی بیوی کو لے کر دبئی چلا گیا ایک سال بعد مجھے اللہ تعالی نے بیٹی سے نوازہ میری زندگی ہی بدل گئی اسی دوران میری امی بیمار ہو گئیں اور میرے بغیر رھنا مشکل ہو گیا وہ چاہتی تھیں میں واپس پاکستان آ جاؤں میں نے اپنا گھر خریدا دبئی میں سیٹ کیا اور پاکستان امی کو ملنے آ گیا فیملی کے ساتھ امی نے دروازے پر ہی ایک شرط رکھ دی کھاؤ قسم اب واپس نہیں جاؤ گے میں نے کہا ماں جی وہا ں پانچ سٹور چالیس پچاس ملازم اپنا گھر سب تباہ ہو جائے گا لیکن ماں نے کہا اس سے دس گنا زیادہ ملے گا بس اب نہی جانا میں نے وعدہ کر لیا میری بیوی نے پوچھا کیا واقع ہم واپس نہی جا رہے میں نے کہا ہاں ہم ایک ہفتے کے کپڑے لے کر آئے تھے میں نے انگلیند جانا تھا وہاں بھی ویر ہاؤس بنانا تھا میں وہاں سے واپس آکر دبئی رکا اور سب بیچنے کے لیے کہا تو کفیل بے ایمان ہو گیا جو ہمارے نام تھا وہ تو بیچ دیا لیکن گاڑیوں اور کچھ اور چیزیں اس نے لے لیں لیکن پھر بھی بہت پیسہ تھا جو پاکستان لایا اور یہاں ہی رہنا شروع کیا ماں نے جو کہا تھا سچ ہو گیا پانچ کمپنیاں بن گئیں اور بہت کچھ کیا 2005 میں واپس آیا اور رئیل اسٹیٹ کا بزنس سٹارٹ کیا پھر چودہ گیٹ سٹائل سٹور پاکستان پنجاب میں بنائے پھر ایل ای ڈی سب سے پہلے پاکستان لایا اور 22 میگاواٹ بجلی دو سال میں بچا کر دی۔
پھر 2012 سے سوشئوآن بنانا شروع کیا اور 2015 کو ٹیسٹنگ سٹارٹ کی اور ٹیکنالوجی فار ہیومن ڈویلپمینٹ بنایا اور لوگوں کو سوشلائزنگ کے ساتھ ساتھ پیسے بھی دئے ایک سال میں تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے اپنی جیب سے 2017 میں اپنے یوزر کو دئے اور ساتھ ساتھ کمپیوٹر بھی سکھایا اب بہت سارے گاؤں میں سوشئوآن سے لوگ سوشلائزنگ کے ساتھ ساتھ کمائی بھی کر رہے ہیں اور ٹیکنالوجی بھی سیکھ رہے ہیں اگست کے مہینے میں گرین پاکستان کے نام سے کام شروع کیا اس وقت میرے یوزر لاکھوں پودے لگا چکے ہیں جو بھی پودے لگاتا ہے اس کی وڈیو بنا کر سوشئوآن پر لگاتا ہے تو میں اسے ایک ڈالر سے زیادہ دیتا ہوں اور ایک سال میں چار ویڈیو بنائے گا اس پودے کی تو تقریباً پانچ ڈالر لے گا اس طرح پودے کے جوان ہونے تک وہ اس کو پانی دے گا اور حفاظت کرے گا۔
اب تھک گیا ہوں باقی پھر کبھی بتاؤں گا۔

یہ تحریر اقبال اختر حسین کے اپنے الفاظ ہیں اور یہاں بغیر ترمیم کے پیش کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے۔

سوشیؤآن جیسا سوشل میڈیا کیوں بنایا؟

Show Comments

No Responses Yet

Leave a Reply

www.000webhost.com